“Human Rights Watch” is a program to discuss human rights issues, legal practices in this field and how to utilize your basic rights provided by law.

www.raah.tv
www.facebook.com/raahtv

  • Shabana Y

    اچھا پروگرام ہے جو آئیڈیالوجی کی سطح تک متاثر کرتا ہے مگر ہمارے ملک میں عملی سطح پر کام کرنے کے حوالے سے راستے ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔بیٹیاں تو آج بھی زندہ دفن کی جارہی ہیں یہ معاشرہ ترقی کی جانب نہیں تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔ آجکل ہمارے ہاں ہر مسئلے کی بنیادی وجہ عدم برداشت سمجھی جاتی ہے مگر یہ بات کہیں نہیں کی جارہی ہے کہ عدم برداشت کی وجہ بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی ہے۔ معاشی سہولتوں کی عدم موجو دگی نے ہی اس معاشرے کی یہ حالت کی ہے، میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ صرف خواتین ہی نہیں ہمارے معاشرے میں مرد بھی مظلوم ہیں۔ اس زمانے میں امیر اس لیے امیر نہیں کہ وہ خدا کی نظر میں پسندیدہ ہے یا اس میں کوئی پوشیدہ خوبی ہے بلکہ ہمارے ہاں امیر اس لیے امیر ہے کہ وہ مکار، بدیانت اور ظالم ہے ، غریب لوگوں کو تسلی دینے کے لیے مذہبی آئیڈیالوجی کو استعمال کیا جاتا ہے جو بر سر اقتدار طبقات کی حمایت کرتی ہے جاگیر دار اگر جسمانی و معاشی استحصال کرتا ہے تو مذہبی اسٹیبلشمنٹ نے غریبوں کا ذہنی و روحانی استحصال کیا ہے، ہر وہ بات جو طاقتور کو فائدہ دے سکتی ہے اس کو مذہبی لبادہ پہنا دیا جاتا ہے، گناہ اور ثواب کی اصطلاحا ت کو جبر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ آغاز اسلام میں ان کا استعمال جن کاموں کو روکنے یا پھیلانے کے لیے کیا گیا ان کی سائنسی وجوہات تھیں، یعنی گناہ سے بچنے کا مطلب تھا کہ کسی عمل کے مضر اثرات سے محفوظ ہونا، مثال کے طور پر ہمیں بچپن سے ہی بتا یا گیا ہے کہ پانی بیٹھ کر پینا چاہیے، سوتے وقت دائیں طرف کروٹ لے کر سونا چاہیے ایسی اور بھی کئی چھوٹے چھوٹے مذہبی احکامات ہیں جو ہمیں یہ کہ کر بتائے جاتے تھے کہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو گناہ ہو گا یا ثواب ہوگا، اب دائیں طرف کروٹ لے کر اگر نہیں سوئیں گے تو کیا گناہ ہوگا? اس سوال کا جواب آج سائنس یہ دیتی ہے کہ بائیں طرف انسان کا دل ہوتا ہے جس پر دبائو پڑنے سے دل کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہے اسی طرح کھڑے ہو کر پانی پینے سے انسان جب پیاسا ہوتا ہے تو بہت زیادہ پانی پی لینا چاہتا ہے جس کی زیادتی معدے کے پھٹ جانے کا سبب ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ثواب سے مراد کسی عمل سے کسی انسان یا انسانیت کو فائدہ پہنچنا، مثال کو طور پر والدین کے حقوق، ہمسائے کے حقوق، یتینموں کے حقوق یہ سب ثواب کے زمرے آتے ہیں جن کے نتیجے میں انسانی معاشرے میں امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ طاقتوروں نے مذہبی خیالیات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے اس کو اس کی اصل روح سے ہی الگ کر دیا ہے، یہ طاقتور مذہبی شخصیات تھیں جن کے پاس علم کی طاقت تھی اور جس کا انھوں نے غلط استعمال ماضی میں بھی کیا اور آج بھی ان لوگوں پر کرتے ہیں جن کے پاس تعلیم نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جو مغربی عطیات سے پاکستان میں سر گرم عمل ہیں وہ اس معاشرے کے اندر کسی نظام کی بہتری کی بات کرنے کی بجائے، پسماندہ علاقوں میں پہنچ پہنچ کر ان خواتین کی “آزادی” کے حوالے سے دماغ شوئی میں مصروف ہیں جن کے گھر میں کھانے کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی، ان نام نہاد پڑھے لکھوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ضرورتیں پسند کا حق چھین لیتی ہیں۔ اگر انسانی حقوق کے علمبردار کچھ کرنا ہی چاہتے ہیں تو ان کو چاپہیے کہ غریب لوگوں کو غربت سے آزادی دلائیںں اور اس کے لیے ان کو سب سے پہلے ذہنی غلامی سے آزادی دلائیں جو تعلیم اور شعور کے بغیر ممکن نہیں، مگر خالی پیٹ کی کوئی آخلاقیات نہیں ہوتی اور علم کی روٹی ایسی روٹی ہوتی ہے جس کو خالی پیٹ ہضم نہیں کر سکتا۔ ہمارے ملک میں کوئی بھی امیر اس لیے امیر نہیں کہ قسمت اس پر بڑی مہربان ہے، قسمت اگر ایسے بددیانتوں پر مہربان ہے تو پھر یہ مقدر بھی استحصالی ہے، یہ سارے مذہبی و استحصالی لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں کہ غریب مطمئن ہو کر ان استحصالیوں کے استحصال کو ان کی اچھی قسمت کا نتیجہ سمجھیں اور اپنی برے مقدر کو ذمہ دار ٹھہراتے رہیں، جبکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگوں کرپشن کے نتیجے میں ہی بر سر اقتدار ہیں اور اس بات کی زندہ مثالیں ہمارے آج کے صدر، وزیر اعظم سے لے کر پارلیمنٹ تک کئی افراد ہیں۔ رہی خواتین کی آزادی تو آج کا سرمایہ دار اس لیے ان کو آزاد کرانا چاہتا ہے کہ وہ گھروں سے نکل کر اپنے ہی شوہروں بھائیوں اور بیٹوں کے مقابل کم پیسوں پر مزدوری کرنے کو میسر ہوں اور مزدوروں کی طاقت کو تقسیم کیا جاسکے تا کہ وہ کوئی بھی قدم ان کے خلاف اپنے مفادات کے لیا نہ اُٹھا سکیں۔

  • mumtazali23@yahoo.com

    Dear M.Tariq Khan Its so nice to see Human Rigghts portion media has no special programme of poorest peoples we appreciate your such efforts and your channel should come forwerd to get the maximum relief for poor peoples and spcially i request you please get the one programme for innocense peoples killing in karachi and one programme with Mr Shujauddin shaikh for relief to crisis in muslilms

  • Ayub Khan, Karachi/Pakistan.

    Congratulations Tariq Bhai for presenting a very good program. Your guest, Ibrahim Azmi has quoted some good examples from our Islamic history with relation to human rights. He has presented every aspects in a nice way with simple and easy to understand language. To discuss on solution part as how to implement Human Rights Laws – no way until the implementers are themselves really want to solve the problems and for this we need some clean (in all respects) people and INSHALLAH a day will come when we will see such people on the top. Anyway, it is really a good efforts of your Raah TV channel to provide people isome good nformation and direction for the right path. Ayub Khan – Karachi. ayubkhan_scc@yahoo.com

Subscribe for our email updates…

Email

Raah Tv Live

About Raah TV

Raah TV is a Pakistani infotainment web channel with a vision to promote positivity, optimism and hope.