پشاور: پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مبینہ منشیات سپلائی کے الزام میں گرفتار کئے گئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسر کے معاملے نے ڈرامائی رخ اختیار کر لیا ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر بشیر احمد پر منشیات سپلائی کاالزام پولیس نے اپنا بدلہ لینے کے لئے لگایا اور اسے میڈیا کے مخصوص حلقے میں نشر و شائع کیا گیا۔

شعبہ انگلش کے اسسٹنٹ پروفیسر کی گرفتاری کے فورا بعد ان کے کلاس فیلوز،کولیگز اور طلبہ کی جانب سے پولیس کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اپنے استاد کا دفاع کیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیر گردش پوسٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تقریبا ایک ماہ قبل اسلامیہ کالج کے ایک لیکچررکی گاڑی کو ایک پولیس افسر کی گاڑی نے ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں لیکچرر کی گاڑی کا نقصان ہوا تھا اس معاملے پرگرفتار لیکچرار بشیر احمد نے اپنے ساتھی لیکچررکی مدد سے پولیس افسر کے سامنے معاملہ اٹھایا تھا جس میں بحث بھی ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کیلئے متعلقہ پولیس افسر نے لیکچرار پر منشیات سمگلنگ کاا لزام لگایا ہے جس کیلئے منصوبہ بندی کی گئی۔

لیکچرر کے پاس سے برآمد ہونے والے پستول کا معاملہ بھی ایسا ہی رہا پولیس نے اسے مشکوک انداز میں بیان کیا جب کہ حقیقت میں وہ لائسنس یافتہ اسلحہ تھا جسے کوئی بھی فرد اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے۔

پولیس کی جانب سے ‘رنگے ہاتھوں’ گرفتاری کے ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لئے جس گاڑی کو ظاہر کیا گیا وہ بھی ان کی ملکیت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو گرفتاری کے بعد پشاور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز نے دعوی کیا تھا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے لیکچرر کو منشیات کی ایک قسم آئس اور چرس کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔

اس موقع پر پولیس نے منشیات کی انتہائی معمولی مقدار 50 گرام اور 150 گرام برآمد کرنے کا دعوی بھی کیا تھا۔

پولیس کی جانب سے مذکورہ لیکچرر کو جھوٹے الزام میں پھنسانے کے ثبوت کے طور پر درج کردہ مقدمہ کی دفعات بھی پیش کی جا رہی ہیں جن میں آسانی سے ضمانت لی جا سکتی ہے۔

پولیس کی جانب سے واقعہ کو مشتہر کئے جانے کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر بشیر احمد کے شناساؤں اور شاگردوں کی بڑی تعداد نے بھی ان کے حق میں اور پولیس کی مخالفت بھی بات کی ہے۔

ان کے ایک قریبی ساتھی نے تبصرہ کیا ہے کہ اگر وہ ڈرگ سپلائر ہیں تو پھرا ن کے پاس دولت ہونی چاہئے لیکن دوسری طرف حال یہ ہے کہ پروفیسربشیر احمد نے گزربسر کے لئے چند روز قبل اپنے ساتھیوں سے قرضہ لیا تھا۔

داؤزئی نامی ایک فیس بک صارف نے لکھا کہ وہ 1996 سے بشیر احمد کو جانتے ہیں،سیاسی و نظریاتی اختلافات سے قطع نظر وہ انہیں ایک دیانت دار فرد کے طور پر جانتے ہیں،اور ان پر لگائے گئے الزام کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ یقینی طور پر انتظامیہ اور پولیس کی حرکت ہے جو ان کے طالب علم دوست اور کرپشن مخالف رویے سے نالاں ہیں۔

لقمان صافی نے لکھا کہ 2 روز قبل بشیر احمد فیزتھری چوک میں موجود تھے جہاں ریگی پولیس کے سادہ لباس میں ملبوس ایس ایچ او نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری۔ تکرار ہونے پرانہیں لاک اپ میں بند کیا جس پر بشیر احمد کے اہلخانہ نے ٹاؤن تھانہ میں گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کروائی۔ معاملہ یہاں تک پہنچنے کے بعد ریگی پولیس نے انہیں پھانسنے کے لئے آئس اور چرس کا جھوٹا کیس بناڈالا۔ اس مرحلے پر اعلی پولیس افسران نے ایس ایچ او کو قرآن پر ہاتھ رکنے کا کہا تھا مذکورہ افسر منکر ہو گیا اور معافیاں مانگنے لگا۔ لیکن آج پھر جھوٹی ایف آئی آر درج کر کے پریس کانفرنس میں جھوٹے الزام لگائے گئے۔

احسان حقانی نامی صارف نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بشیر احمد کی جھوٹے الزامات میں گرفتاری اور پھر اس خبر کو میڈیا پر لانا انہیں بدنام کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔

پشاور پولیس کی جانب سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے لیکچرر کے خلاف مشکوک مقدمہ درج کرنے اور اس کی میڈیا پر خبرلائے جانے سے قبل اور اس کے بعد ان سے ملاقات کی کوشش کرنے والے اہلخانہ اور اساتذہ و طلبہ کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک دیانت دار استاد کے خلاف جھوٹا کیس درج کرنے اور انہیں بدنام کرنے پر ردعمل ظاہر کرنے والوں کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہو گا کہ اپنی عوامی ساکھ بہتر رکھنے کیلئے خصوصی مہم چلانے والی خیبرپختونخوا پولیس اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔

Subscribe for our email updates…

Email

Raah Tv Live

About Raah TV

Raah TV is a Pakistani infotainment web channel with a vision to promote positivity, optimism and hope.