لندن: برطانیہ میں قبل از وقت ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ایک ایسی معلق پارلیمان وجود میں آئی ہے جہاں کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کے لئے مطلوب اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔

اگر چہ سابق حکمراں جماعت حکومت بنانے کے لئے درکار اکثریت کے انتہائی قریب ہے تاہم مجموعی طور پر 650 رکنی پارلیمان میں مطلوب 326 نشستوں سے 8 نشستیں دور ہے۔

برطانیہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں مجموعی طور پر 42 فیصد ووٹ لینے والی سابق حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی اور 40 فیصد مجموعی ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود لیبر پارٹی نے ایک بار پھر 1970 کے بعد ’ٹو پارٹیز پالیٹیکس‘ کو زندہ کردیا ہے۔

لیبر پارٹی نے مجموعی طور پر گزشتہ نشستوں کے مقابل 29 سیٹیں زیادہ حاصل کر کے 261 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ کنزرویٹو اپنی گزشتہ نشستوں کے مقابل 12 کی کمی کے ساتھ 318 پر ہیں۔

اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) کو 21 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد وہ 35 کے ساتھ ایوان میں آئیں گے،لبرل ڈیموکریٹس نے 4 کے اضافے کے ساتھ موجودہ ایوان میں 12 نشستیں حاصل کیں،ڈیموکریٹنک یونینسٹ پارٹی نے 2 کے اضافے کے ساتھ 10 نشستیں جب کہ دیگر نے 2 کے اضافے کے ساتھ 10 نشستیں حاصل کی ہیں۔

حالیہ برطانوی انتخابات میں ٹرن آوٹ 1997 کے بعد سب سے زیادہ رہا،2 فیصد اضافے کے ساتھ 69 مجموعی ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
لیبر پارٹی نے نوجوان ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی،جن نشستوں پر 18 تا 24 سال عمر کے ووٹرز کی تعداد زیادہ تھی وہاں لیبر نے زیادہ کامیابی حاصل کی۔ نوجوان ووٹرز والی نشستوں پر ٹرن آئوٹ بھی سب سے زیادہ رہا۔

برطانوی انتخابات 2017 میں تیس پاکستان نژاد امیدوار مختلف پارٹیوں کی جانب سے انتخابی عمل کا حصہ تھے۔ ان میں سے 5 خواتی سمیت 11 نے پارلیمان کا حصہ بننے میں کامیابی حاصل کی۔ نومنتخب پاکستانی نژاد ارکان پارلیمنٹ میں سے 8 کا تعلق لیبر پارٹی جب کہ 3 کا کنزرویٹیو پارٹی سے ہے۔

2017 کے برطانوی انتخابات میں مقابلہ کرنے والی خواتین امیدواروں کی تعداد مجموعی طور پر کم تھی تاہم پارلیمان میں پہلی بار خواتین ایم پیز کی تعداد 200 سے زائد ہو گی۔ 2015 میں 196 خواتین ارکان اسمبلی کا حصہ تھیں۔ حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی 30 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل تھی جو گزشتہ انتخابات کے 26 فیصد سے 4 فیصد زیادہ رہی ہے۔

برطانیہ میں لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار برمنگھم ایجبیسٹن سے سکھ خاتون پریت کور گل پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ 44 سالہ پریت کور نے اپنے مدمقابل امیدوار کو 6917 ووٹوں سے شکست دی۔

برطانوی انتخابات جیتنے والی سابق حکمراں کنزرویٹرپارٹی کی لیڈر تھریسا مے کے مقابل میڈن ہیڈ کے حلقے سے لارڈ بکٹ ہیڈ بھی مقابل تھے۔ اپن چہرہ چھپا کر مہم کرنے اور سر پر ٹوکری رکھ کر میڈیا کے سامنے آنے والے بکٹ ہیڈ نے 249 ووٹ حاصل کئے۔ یہ غیرمعمولی نوعیت کے اکلوتے امیدوار نہیں تھے بلکہ بابی ایلمو اسمتھ بھی ریس کا حصہ تھے جنہیں تین ووٹ ملے۔

حالیہ انتخابات میں سب سے کم اکثریت سے جیتنے والے امیدواروں میں عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کے بھائی نے صرف 45 ووٹوں سے اپنی سیٹ جیتی. لندن کے موجودہ پاکستانی نژاد مئیر صادق خان کے مقابل ہارنے والے زک گولڈ اسمتھ کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار تھے جن کا مقابلہ لبرل ڈیموکریٹس کی سارا اولنی سے تھا،جب کہ اسکاٹ لینڈ میں اسکاٹش نیشنل پارٹی کے امیدوار نے صرف 2 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

سابق حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی ڈی یو پی یعنی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کر لے گی،تاہم یورپی یونین سے اخراج کے لئے ہوئے ریفرنڈم پر یہ سوال ضرور اٹھ گیا ہے کہ اگر عوام ابھی بھی ایسا چاہتے ہیں تو انخلا کی مضبوط حامی کنزرویٹو کی نشستوں میں کمی کا کیا جواز پیش کیا جائے گا؟

Subscribe for our email updates…

Email

Raah Tv Live

About Raah TV

Raah TV is a Pakistani infotainment web channel with a vision to promote positivity, optimism and hope.