اسلام آباد: جمعرات کو قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی حلیف محمود اچکزئی اور تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے درمیان اس وقت جھڑپ ہو گئی جب ایوان میں فاٹا کے انضمام کے متعلق بل روک گیا گیا۔

اپوزیشن ارکان نے اس بات پر احتجاج کیا تو حکومتی اتحادی محمودخان اچکزئی کھڑے ہوئے اور اپنی تقریر کے دوران کہہ ڈالا کہ کوئی بندہ فاٹا کو نہیں سمجھتا،آپ کو کیا پتہ کہ فاٹا کیا بلا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرتاج عزیز نے ان کیا وعدہ پورا نہیں کیا۔آزادی ایکٹ میں بھی فاٹا کا ذکر نہیں تھا،خیبرایجنسی ڈیورنڈ لائن سے پہلے قائم ہوئی۔

محموداچکزئی کا کہنا تھا کہ آپ فاٹا کے عوام کے گلے میں جو آرٹیکلز ڈالنا چاہتے ہیں،ان کی مرضی تو معلوم کریں،بغیر رضا مندی کئے گئے فیصلے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا آپ پارلیمان کی خودمختاری کی بات کرتے تھے آج کیوں نظرانداز کر رہے ہیں،بلوچستان کے رکن اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں۔

اچکزئی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آج بھی آپ کا دل پاکستان کے لئے صاف نہیں ہے،آپ کی ایک ذات ہے آپ پاکستان کو قبول کرتے ہی نہیں ہیں۔

عبدالقارد بلوچ کا کہنا تھا کہ فاٹا کے معاملات کو چلانے،قانون بنانے کا طریقہ آئین میں درج ہے۔ حکومت پاکستان کو حق تھا کہ وہ رواج بل کو بطور ریگولیشن نافذ کر دیتی،جمہوری حکومت ہے اس لئے قاون سازی کرنا چاہتے ہیں۔

ن لیگی رکن اسمبلی عبدالقارد بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم نے ان سے فاٹا کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں کی،ہمارے اور وزیراعظم کے اوپر فاٹا کے مسئلہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ فاٹا کو پانچ سال میں قومی دھارے میں لانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

قبل ازیں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اجلاس فاٹا معاملے پر ہی بلایا گیا تھا،حکومتی اقدامات سے واضح تھا کہ آج بل اجلاس میں پیش کیا جائے گا لیکن بل کو آج روک دیا گیا کہ وہ بل نہیں آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک جانب تو فاٹا کو لالی پاپ دینا چاہتی ہے کہ بل لائیں گے لیکن دوسری جانب اپنے اتحادیوں کے ذریعے روک دیتی ہے۔ یہ بہت بڑی آئینی ترمیم ہے اس کے روکنے کی مذمت کرتا ہوں۔

Subscribe for our email updates…

Email

Raah Tv Live

About Raah TV

Raah TV is a Pakistani infotainment web channel with a vision to promote positivity, optimism and hope.