اسلام آباد: ایف آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق1993کی تحقیقات میں کسی قطری خط کا کوئی وجود نہیں تھا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ1993میں پارک لین اپارٹمنٹ کے حوالےسے ہونے والی تحقیقات میں کسی قطری یا اس کے خط کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا تھا۔

سابق ڈپٹی ڈائریکٹر انعام الرحمان نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف1993میں ہونے والی تحقیقات میں پارک لین کی جائیداد بھی شامل تھی تاہم اس وقت کسی قطری یا اس کے خط کا کوئی وجود نہیں ملا۔

انعام الرحمان نے الزام لگایا کہ انھوں نے اس جائیداد کی تحقیقات کیں اور ایک مکمل فائل تیار کی تھی تاہم مجھے نہیں معلوم کہ کیسے اور کب وہ فائل گم کر دی گئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز اور اتفاق انجئیرنگ کے علاوہ نیسکول اور نیلسن کمپنی بھی شریف خاندان کی ذاتی کمپنیاں ہیں۔

سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ وہ شریف خاندان کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں تاہم اس لئے انھیں سیکیورٹی بھی فراہم کی جائے۔

مزید برآں انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر جے آئی ٹی نے ان کے نام سمن جاری کیا تو وہ دستاویزات بھی فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

Subscribe for our email updates…

Email

Raah Tv Live

About Raah TV

Raah TV is a Pakistani infotainment web channel with a vision to promote positivity, optimism and hope.