ریاض: سعودی عرب،مصر،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے مسلم دنیا میں معتدل اور غیرمتنازعہ اہل علم میں سب سے بڑے نام شیخ علامہ یوسف القرضاوی سمیت 59 افراد اور 12 اداروں کو قطر سے متعلق قرار دے کر دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

چاروں ملکوں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کو مذکورہ ممالک کے خبررساں اداروں کی جانب سے شائع کیا گیا ہے۔

دہشتگرد قرار دیے جانے والےا فراد اور اداروں کی فہرست میں معروف مسلم اسکالر اور ورلڈ یونین آف مسلم اسکالرز کے صدر علامہ یوسف القرضاوی بھی شامل ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چاروں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ 59 افراد اور 12 اداروں کو دہشتگردوں کی فہرستوں میں شامل کر کے ان پر پابندی عائد کریں گے،مذکورہ فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرکے ان کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ فہرست قطرکے مشتبہ مقاصد کو پورا کرنے والوں کا احاطہ کرے گی۔ قطر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ دوغلی پالیسی کے تحت ایک جانب دہشتگردوں کے خلاف لڑنے اور دوسری جانب متعدد دہشتگرد تنظیموں کو فنڈز،معاونت فراہم کرنے اور ان کی افزائش کے پس پردہ کردار بھی ادا کررہا ہے۔

چاروں ممالک نے دہشتگردوں سے لڑنے،خطے میں سیکیورٹی بہتر بنانے اور استحکام لانے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔  بیان کے مطابق وہ مذکورہ افراد اور گروپس کا تعاقب کرنے کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہر ممکن تعاون کریں گے۔ دہشتگرد سرگرمیوں اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف ان کی حیثیت سے قطع نظر مقابلہ کیا جائے گا۔

چار ملکی اتحاد کی تیار کردہ فہرست میں قطر،اردن،یمن،لیبیا،مصر،بحرین،کویت،یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے افراد اور ادارے شامل ہیں۔

فہرست میں مصر سے سیاستدانوں میں عاصم عبدالماجد،طارق الزومراور مبلغ وجدی غنیم شامل ہیں۔ صادق الغریانی، لیبیائی تاریخ دان علی محمد محمد الصلابی،کرنل قذافی کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی شوری کونسل کے رکن اسماعیل الرفیق الصلابی،اورلیبیائی نیشنل پارٹی کے سربراہ عبدالحکیم بلحاج بھی اس کا حصہ ہیں۔

لسٹ میں قطر کے حکمراں شاہی خاندان کے عبداللہ بن خالد الثانی بھی شامل ہیں جب کہ عبدالرحمن بن عمیر النعیمی کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ قطر سے تعلق رکھنے والے خیراتی اور رضاکار اداروں میں صے قطر والنٹئیری سینٹر،قطر چیریٹی،شیخ عید الثانی چیریٹی فاؤنڈیشن اور شیخ ثانی بن عبداللہ ہیومنیٹیرین سروسز فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

قطر نے اس رپورٹ کے فائل کئے جانے کے وقت تک چار رکنی اتحاد کی جانب سے حالیہ اقدام پر کچھ نہیں کہا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کے بعد سے سعودی عرب اور اس کے قریبی اتحادیوں مصر،یو اے ای،بحرین،یمن،مویچانیہ اور کومورس نے قطر سے سفارتی تعلقات یہ کہہ کر منقطع کئے ہیں کہ وہ خطے میں دہشتگردی کو پروان چڑھا رہا ہے۔

اردن اور جبوتی نے اپنے سفارتی عملے میں کمی جب کہ سینیگال اور چاڈ نے اپنے سفیروں کو مشاورت کے لئے واپس بلایا ہے۔

سعودی عرب،بحرین،یو اے ای اور مصر کی جانب سے قطر کے ساتھ زمینی فضائی اور بحری راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب قطر نے چاروں ملکوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے کیا تھا۔ قطری حکام کا کہنا تھا کہ جھوٹ اور بہتان بازی پر مشتمل مہم کا مقصد یہ ہے کہ اسے اپنے قومی مفاد میں فیصلوں سے روکا جائے۔

Subscribe for our email updates…

Email

Raah Tv Live

About Raah TV

Raah TV is a Pakistani infotainment web channel with a vision to promote positivity, optimism and hope.