تہران: ایرانی انقلاب کے سربراہ خمینی کے مقبرے اور تہران میں پارلیمنٹ کی عمارت پر خود کش اور مسلح حملہ آوروں کی کارروائی میں 12 افراد جان سے گزر گئے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایس یعنی داعش نے قبول کی ہے۔

کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے کے دوران مسلح افراد نے پارلیمان کی عمارت کے ایک حصے کو بھی اپنے قبضے میں رکھا تھا۔

دریں اثنا داعش کی جانب سے اپنے نشریاتی ادارے عماق نیوز ایجنسی کی جانب سے حملہ کے دوران ہی حملہ آوروں کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی حملے کے دوران ہی حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم نے اس کا لائیوثبوت پیش کیا ہو۔

ایرانی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ حملے کے 5 گھنٹے بعد تمام حملہ آوروں کو مقامی وقت کے مطابق 3بجے تک مار دیا گیا تھا۔

تہران کے وسط میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ اس وقت شروع ہوا جب 5 حملہ آوروں نے صبح کے بعد کارروائی شروع کی اور ابتدامیں ہی سیکیورٹی گارڈ سمیت ایک اور فرد کو قتل کردیا۔

ایرانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حملہ آور خواتین کے لباس میں وزیٹرز کے داخلے کے راستے سے اندر آئے تھے۔ خمینی کے مقبرے پر حملہ کرنے والوں میں ایک خاتون خود کش حملہ آور بھی شامل تھی۔

پارلیمنٹ پر حملے کے دوران ہی 3 سے 4 حملہ آوروں کے ایک گروپ نے روح اللہ خمینی کے مزار کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ 1979 کے انقلاب کی قیادت کرنے والے خمینی کے مقبرے پر داخل ہونے والوں نے ایک باغباں کو قتل اور دیگر گئی کو زخمی کر دیا۔

ایرانی کے ہنگامی حالات میں کردار ادا کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ دونوں حملوں میں 12 افراد مارے گئے ہیں جب کہ 39 زخمی ہوئے ہیں۔ مزار کے احاطے میں داخل ہونے والے حملہ آوروں میں سے خاتون سمیت 2 نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا،جب کہ ایک نے پارلیمنٹ کے چوتھے فلور پر خود کش جیکٹ کو پھاڑا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے جنوبی تہران میں واقع مقبرے میں داخل ہونے کے بعد خود کو اڑانے والے حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

حملے کے دوران ایرانی پارلیمان کا سیشن جاری تھا جس میں موجود ارکان کا اصرار تھا کہ معمول کی کارروائی جاری رکھی جائے۔ ایرانی اسپیکر علی لاریجانی نے حملے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اہم معاملات پر کارروائی جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ داعش کے افغانستان اور عراقی بارڈر پر ایرانی فورسز کے ساتھ تصادم ایک معمول کی بات سمجھے جاتے ہیں تاہم شہری مراکز تک یہ حملے نہیں پہنچے تھے۔

جون 2016 میں ایران کی انٹیلی جنس کی وزارت نے کہا تھا کہ تہران کو نشانہ بنانے کی ایک سازش کو ناکام بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب مارچ میں داعش کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ایران پر قبضہ کر کے اسے ماضی کی طرح سنی ریاست بنائے گی۔

اتوار کو ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں داعش کی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مشرق وسطی میں مغرب کی پالیسیاں ناکام ہو کر بیک فائر کر رہی ہیں۔ یہ وہ آگ ہے جو انہوں نے خود جلائی اور اب یہ انہی پر گر رہی ہے۔

Subscribe for our email updates…

Email

Raah Tv Live

About Raah TV

Raah TV is a Pakistani infotainment web channel with a vision to promote positivity, optimism and hope.